بد اخلاقی۔ بد زبانی ہماری شناخت کیوں؟

75 سال بعد ایک ملک کا سماج اعلیٰ ظرفی۔ تہذیب کی پختگی۔ شائستگی، بلند خیالی کے جس بلند مقام پر ہونا چاہئے تھا۔ وہاں نہیں ہے۔ اس معاشرے کی اپنی کچھ روشن اقدار۔ مہذب روایات۔ متوازن تمدن ہونا چاہئے تھا۔ وہ نہیں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی نئے وسائل جنہیں سوشل میڈےا کہا جاتا ہے۔ ان کے قدم جمانے کے بعد ہمارے لوگوں کے جو نقوش اس پر مرتب ہورہے ہیں۔ وہ بیشتر بد زبانی۔ غیر اخلاقی۔ ہرزہ سرائی۔ دشنام طرازی سے عبارت ہیں۔ وہ تحریری سطور ہوں ۔ سمعی تبصرے(آڈیوز) ہوں ۔ یا بصری حرکتیں(وڈیوز) وہ سنجیدہ ہم وطنوں کو رونے پر آمادہ کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا عام افراد تو غیر منظم طریقے سے بر سبیل تذکرہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہماری حکومتی شعبے۔ سیاسی جماعتیں۔ فرقہ پرست تنظےمیں۔ مذہبی پریشر گروپ۔ اسٹیبلشمنٹ۔ ایجنسیاں تو انتہائی منظم اور پہلے سے سوچے سمجھے لائحہ عمل کے تحت برت رہی ہیں۔ بعض افراد نے اپنے ویب ٹی وی۔ اپنے یو ٹیوب چینل بھی شروع کیے ہوئے ہیں۔ کسی کی بھی آرزو اطلاع دینا نہیں ہے۔ مستقبل کے لیے تربیت نہیں ہے۔ قوم بنانا نہیں ہے۔ اس لیے ایک بد اخلاق۔ بد زبان۔ بے راہرو معاشرہ وجود میں آرہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اگر سامعین ناظرین کو معیشت سمجھنے۔ اقتصادی استحکام۔ اور خود کفالت کی طرف لے جاتے تو سوشل میڈےا کی ربع صدی میںہم ایک با مقصد معاشرے کی تخلیق کرسکتے تھے۔ قوم کتاب سے دور ہوتی گئی۔ ذہن صرف نعرے بازی تک محدود ہوکر رہ گئے۔ جاگیرداروں۔ زمینداروں۔ سرداروں کی اپنے غلاموں کی ایک فوج نسل در نسل چلی آرہی ہے۔ نو دولتیوں۔ سرمایہ داروں۔ ٹھیکیداروں نے بھی شہروں میں اپنے تنخواہ دار غلام کاشت کرلیے ہیں۔ سیاسی لیڈروں نے بھی کارکنوں کے دماغوں پر لوہے کے خول چڑھادیے ہیں۔ یہی حال علمائے کرام کا بھی ہے۔ وہ بھی ایسے پیروکاروں کو ترجیح دیتے ہیں جو اپنے ذہن سے نہ سوچیں۔
گزشتہ چار دہائیوں سے ایسی نسلیں تیار کی جارہی ہیں جن کا اپنا مطالعہ نہیں ہے۔ جو اپنے مشاہدے پر یقین نہیں رکھتے۔ جو تاریخ کے اوراق سے نابلد ہیں۔ جغرافیے کی حدود میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان کی شناخت خود غرضی۔ ان کا کردار۔ صرف مالی اور سماجی ہوس ہے۔ انتہا پسندی زوروں پر ہے۔ دنیا میں بھی دین میں بھی۔ اگرمذہبی شدت پسند ہیں تو سیکولر شدت پسند بھی ہیں۔
ریاست کے ستون ریاست کو لڑکھڑابة سے بچانے کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے خطّے میں یہ ستون۔ چاہے عدلیہ ہو۔ انتظامیہ۔ مقننہ یا میڈیا۔ ان کے مسلسل رویے ایسے ہیں کہ ریاست ان کی وجہ سے لڑکھڑاتی ہے۔ جب ستون خود ہی لرز رہے ہوں تو وہ عمارت کو پائیداری کیسے دے سکتے ہیں۔
چشم فلک دیکھ رہی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ کسی انسان کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ہم اقتصادی دیوالیہ کے قریب ہیں۔
حکمران اور اپوزیشن تو یہ بحران پیدا کررہے ہیں۔ ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہمیں اس اضطراب سے باہر نکال سکتے ہیں۔ امید صرف اہل علم سے یونیورسٹیوں سے اساتذہ سے تحقیقی اداروں اوردینی مدارس سے کی جاسکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ آئندہ دس بیس برس کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ علاقے میں کیا کیا ہونے والا ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں جاسکتی ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں اور دینی مدارس ایسا جائزہ لے سکتے ہیں۔ وہاں ایسے دماغ موجود ہیں۔ ان کو آزادانہ اپنے خیالات پر مشتمل دستاویز یں تیار کرنے دیں۔
موڑ بہت نازک ہے۔” اب یا کبھی نہیں“ کا مرحلہ ہے۔ ’اطراف‘ یہ سطور تاریخ کے تناظر میں لکھ رہا ہے کہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں کہ ہمیں وقت پر کسی نے خبردار نہیں کیا تھا۔
ہم یہ بھی بلا خوف تردید کہی گے کہ وہ موجودہ سنگین انتشار۔ اضطراب۔ بے چینی۔ بد اخلاقی۔ بد زبانی ۔ دشنام طرازی کی ذمہ دار۔ وہ سیاسی اور فوجی حکومتیں ہیں۔ جو اسّی کی دہائی سے اب تک مملکت کی باگ ڈور سنبھالتی رہی ہیں۔ یہ داغ داغ سماج ۔لڑکھڑاتی ریاست۔ بے بس اکثریت۔ انہی کی دَین ہے ۔ ان حکمرانوں کی نئی نسلیں بھی ہوس۔ خود غرضی اور انسانیت دشمن کی میراث کو آگے لے کر چل رہی ہیں۔
یونیورسٹےوں اور دینی مدارس میں نئے عناصر کو ان سے ماورا ہوکر نیا عمرانی معاہدہ دینا چاہئے۔ تاکہ ہماری شناخت صرف بد اخلاقی اوربد زبانی نہ رہے۔

فروری 2023

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *