میں قاتلوں کے خوابوں میں گئی اور ان سے پوچھا،” جب گولیاں جیتے جاگتے انسانوں کے سینوں کے پار ہوتی ہیں تو کیا تم نے کبھی مرنے والوں کی ٓانکھوں میں جھانکا؟ تم نے کبھی گولیوں سے بننے والے سوراخوں پر غور کیا؟ دمشق میں قاتل جلدی سوجاتے ہیں لیکن ہم بے چینی میں جاگتے رہتے ہیں۔ موت کوئی سوال نہیں ہے۔ موت ایک کھڑکی ہے جو ہمارے سوالوں کے جواب دینے کے لئے کھلتی ہے۔ ہمیں جواب چاہیئے تو اندر جاسکتے ہیں واپس نہیں ٓاسکتے۔
میں اپنے گھر سے باہر کھلنے والی کھڑکی سے دور تک دیکھ سکتی ہوں۔ یہاں سے دور تک تمام اسکوائرز اور مسجدیں نظر ٓاتی ہیں۔ یہ دوپہر کا وقت ہے اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کے سوا کوئی نہیں ۔ لوگ اپنے گھروں میں خوف سے دبکے بیٹھے ہیں۔ کہیں عام لوگ ہیں بھی لیکن کوئی یہ تمیز نہیں کرسکتا کہ یہ سادہ لباس والے سرکاری جاسوس ہیں یا عام شہری۔ لیکن میں سرکاری جاسوسوں کو بڑی حد تک پہچان لیتی ہوں۔ ان کی ٓانکھوں سے، ان کی چال ڈھال سے، ان کے جوتوں سے۔سوق الحمیدیہ اور باب توما کے قریب فوج کا گشت جاری ہے۔ میں جلدی جلدی ان کے قریب سے گزر جاتی ہوں۔ مسجد امیہ کے قریب فوجیوں کا ہجوم ہے۔ اچانک مجھے کچھ اجنبی چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لمبے تڑنگے ہیں اور ان کے کسرتی جسم اور بازؤوں کے عضلات ٹیٹؤوں سے رنگے ہوئے ہیں۔ وہ ہر طرف نظر رکھے
ہوئے ہیں۔ لیکن میں ان کو شناخت نہیں کرسکی۔ کیا وہ کسی غیر ملکی ایجنسی کے لوگ ہیں۔ نہیں نہیں! یہ شامی ہی ہیں کیونکہ وہ صدر بشار الاسد کے تصویروں والے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں المرجیہ اسکوائر پہنچتی ہوں جہاں بہت کم عام لوگ ہیں ۔ ہر طرف فوجی پھیلے ہوئے ہیں۔ 16 مارچ کو یہاں لوگ سرکاری جیلوں میں قید اپنے پیاروں کی تصویریں لے کر کھڑے تھے۔ وہ یہ نعرے بھی نہیں لگارہے تھے کہ ان کے پیاروں کو رہا کیا جائے۔ یہ ایک
خاموش مظاہرہ تھا جس میں مایوسی، اور غم کے ملے جلے جذبات غالب تھے۔ انہیں کوئی نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی، میرے قریب ایک شخص اور اس کے دو بیٹے اپنی ماں کی تصویریں لئے کھڑے تھے جو سرکاری جیل میں تھی۔ اچانک ایک گلی سے کسرتی جسم اور سادے لباس والے افرا دکا ایک گروپ نمودار ہوا۔
انہوں نے صدر کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں انہوں نے اس چھوٹے سے مجمع پر مشتمل مظاہرین کو پیٹنا شروع کردیا۔مظاہرین اپنا دفاع نہیں کررہے تھے ۔ وہ خاموشی سے مار کھا رہے تھے۔ وہ ان لمبے تڑنگے سادہ لباس والوں سے ویسے بھی نہیں لڑ سکتے تھے۔ ایک شخص
نے ایک دکان کا شٹر اٹھایا اور مظاہرہ کرنے والی عورتوں کو ایک ایک کرکے اندر پھینکا اور باہر سے شٹر بند کردیاْ۔ فوج اور پولیس خاموشی سے شہریوں کو ان غنڈوں کے ہاتھوں مار کھاتے دیکھ رہی تھی۔ میرے ساتھ کھڑے ہوئے شخص اور اس کے دس سالہ بیٹے کو بھی ان لوگوں نے مارنا شروع کیا ۔ میں نے چار سالہ بچے کو اپنی گود میں بھینچ لیا تاکہ اسے کوئی لاٹھی نہ لگ جائے۔ وہ اپنے باپ اور
بھائی کو مار کھاتے دیکھ کر رونے کے قریب تھا۔ دس سالہ لڑکے نے ان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کی تو اس کے سر پر ایک بٹ مارا گیا اور وہ بے ہوش ہوکر نیچے گر گیا۔ دو مضبوط بازٔوں نے اسے اور اس کے باپ کو قریب کھڑی ایک بس کے اندر ٹھونس دیا۔ میں نے چار سالہ بچے کے بازو کو مضبوطی سے پکڑا اور گلی سے ٓاگے کی جانب بھاگنے لگی۔ بچہ اپنے باپ اور بھائی کو مارنے والوں سے لڑنا چاہتا تھا لیکن میں نے اسے روکے رکھا اور کہا کہ تم ابھی بہت چھوٹے ہو۔ اس نے پوچھا کہ کیا اس کے باپ اور بھائی کو بھی جیل میں ڈال دیا جائے گا جہاں اس کی ماں بھی قید ہے۔ میں اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکی اور خاموش رہی۔ میں اپنی امی جان کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ بچہ بولا۔ وہ خود صرف اس لئے جیل جانا چاہتا تھا کہ اس کی ماں جیل میں تھی۔ میں نے بمشکل اپنے ٓانسؤوں کو بہہ نکلنے سے روکا اور بولی تم ابھی بہت چھوٹے ہو۔ تمہاری امی جیل سے رہا ہوکر جلدی ٓائے گی اور تمہیں ساتھ لے جائے گی۔ تم میرے ساتھ رہو ورنہ
وہ تم کو ڈنڈوں سے ماریں گے۔ بچہ یہ سن کر ڈر گیا اور اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
درحقیقت وردی والی پولیس اور فوج مظاہرین کو نہیں مار رہی تھی۔ ان کی جگہ سادہ لباس والے لائے گئے تھے جو اس طرح صدر کی تصویریں اٹھائے ہوئے تھے جیسے وہ صدر کی حامی کسی سیاسی جماعت کے کارکن ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ سادے لباس میں سرکاری اہل کار تھے جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے الٹھی چارج کیا اور اس کے بعد انہیں سرکاری گاڑیوں میں بھر کے جیل بھیج دیا۔
شام کو سرکاری ٹیلی ویژن سے خبروں میں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ کے دفتر کے قریب کچھ لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ جب عوام کا ایک گروپ صدر کی حمایت میں مظاہرہ کرنے وہاں پہنچا تو دونوں گروپوں میں تصادم ہوگیا۔ خبروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ نقص امن کے اندیشے کے پیش نظر دونوں گروپوں کے کچھ لوگ حراست میں لئے گئے اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ انہیں جلد پراسیکیوٹر کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ میں سوچ رہی تھی کہ جدید دور میں پروپیگنڈا مشینری کو کس قدر مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جو گروپ صدر کے
جھنڈے لئے وہاں پہنچا اس کا عام شہریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب خاص چال ڈھال کے لوگ تھے اور سادے لباس میں ہونے کے باوجود ان کی بدن بولی ثابت کررہی تھی کہ وہ سرکاری ایجنسیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پرامن مظاہرین پر حملہ کیا، ان کے بینر اور کتبے چھین لئے ۔ان کو زد و کوب کیا اور انہیں گاڑیوں میں بھر کر جیل لے گئے۔ ان میں اس سے پہلے پکڑے جانے والے مظاہرین کے
بچے ، بھائی بہن، والدین، اور دیگر عزیز و اقارب شامل تھے اور اس نام نہاد جمہوریہ میں ان کو اس کی اجازت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کرسکیں۔ ان کو جن عدالتوں میں پیش کیا جاتا تھا وہ سمری سماعت کی فوجی عدالتوں سے بدتر تھیں جو قیدیوں کو وکیل کی سہولت دئے بغیر سزائیں سناتی تھیں۔ میں سوچتی رہی اور کڑھتی رہی۔ کیا یہ سب ٹھیک ہوسکتا ہے؟ کیا مغرب
میں انسانی حقوق کے محافظ ہونے کا دعوی کرنے والوں کو شام میں ہونے والی ان بہیمانہ کارروائیوں میں کوئی دلچسپی ہے؟ ان کا انصاف کا تصور اس قدر رنگدار کیوں ہے؟ جو جمہوریت کو صرف اپنے معاشروں کے لئے پسند کرتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے ملکوں میں ہمیشہ
فوجی ٓامروں اور بادشاہوں کی سرپرستی کیوں کرتے ہیں؟ کیا شام کی سڑکوں پر بہنے واال خون انسانوں کا نہیں؟ میں سوچتی رہی اور جلتی کڑھتی رہی۔ مجھے جلد یہ محسوس ہونے لگا جیسے میرا دماغ پتھر کا ہوگیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جامع مسجدامیہ کا گھیرأو کیا ہوا تھا۔ میں یہ دیکھنے گھر سے نکلی کہ وہاں کیا ہورہا
ہے؟ مسجد کی طرف جانے والے سب راستے بند تھے۔ ہر طرف یا تو فوجی، پولیس والے اور ملیشیا والے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ پھیلے ہوئے تھے یا پھر سادے لباس والے تھے جن کے ہاتھوں میں صدر کی تصویریں اور بینر تھے جن پر صدر بشار االسد کی حمایت میں نعرے درج
تھے۔ وہاں پہنچنے کے لئے میں نے ایک ٹیکسی لی کیونکہ سب راستے بند مل رہے تھے۔ ٹیکسی نے قریب ترین جگہ پر مجھے اتار دیا۔ اس پورے مجمع میں میں واحد عورت تھی اورمجھ کو سب نے نظر میں رکھ لیا تھا۔ ان کی نظریں تیروں کی طرح میرے جسم میں پیوست ہورہی تھیں اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ جیسے میں برہنہ ہوں۔انٹیلیجنس کے لوگ میرے بارے میں سوچ رہے تھے کہ شاید میرا تعلق میڈیا سے
ہے۔اسی وجہ سے کوئی مجھے مسجد کے قریب پہنچنے نہیں دے رہا تھا۔ کچھ سادے لباس والے لوگ ایک عمارت پر چڑھے ہوئے تھے اور کھسر پھسر کررہے تھے۔ میں ان کی بات سمجھنے کے لئے رک گئی۔ ان میں سے ایک کہہ رہا تھا ۔” اس کا خیال رکھنا کہ کوئی کیمرا حد یہ کہ موبائیل واال کیمرا بھی کسی کے پاس نہ رہ جائے۔ ورنہ یہ تصویریں بین االقوامی میڈیا میں پہنچ جائیں گی۔ یہاں صرف سرکاری ٹی وی کو رسائی کی اجازت تھی۔ کوئی غیر ملکی رپورٹر بھی یہاں پہنچنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے لوگوں کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ کچھ مظاہرین نے مسجد میں پناہ لے رکھی ہے۔ مسجد کے امام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں کہ ان لوگوں کو پرامن طور پر گھروں تک جانے کا راستہ دے دیا جائے۔فورسز کا کہنا تھا کہ وہ صرف سازشی عناصر کی تالش میں ہیں۔ جو یہاں
دہشت گردی کرنا چاہتے ہیں۔ امام کا کہنا تھا کہ یہاں موجود لوگ نمازی ہیں اور انہیں گھر جانے دیا جائے۔ بعد میں جو نمازی مسجد سے باہر نکلے ان میں سے بیشتر کو سیکیورٹی فورسز نے گھر جانے کے بجائے جیل کا راستہ دکھایا۔مجھے اب شدید خطرے کا احساس ہورہا تھا۔
میں اس پورے مجمع میں واحد عورت تھی اس لئے سب سے الگ نظر ٓارہی تھی۔مجھ پر لوگوں کی نظریں گڑنا فطری بات تھی۔صدر کی تصویر اٹھائے ایک شخص میری طرف بڑھا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے۔ میں تیزی سے ٹیکسی کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ بہن” ٹیکسی ڈرائیور نے کہا” ٓاپ یہاں کیا کررہی ہیں۔ ان لوگوں سے بچ کر رہیں تو اچھا ہے۔ یہ لوگ عورتوں کے ساتھ کوئی اچھا ” سلوک نہیں کرتے” ۔ میں خاموش رہی۔ میں خوف سے لرز رہی تھی۔ ہر طرف خوف ناک چہرے والے لوگ نظر ٓارہے تھے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ مجھے کچھ دیر پہلے پتہ چلا تھا کہ دوما میں فائرنگ ہوئی ہے اور درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہیں۔ میں نے
ڈرائیور سے کہا کہ وہ مجھے دوما لے چلے۔ ڈرائیور اپنی سیٹ سے تقریبا اچھل پڑا اور بولا،” بی بی ٓاپ ادھر نہیں جا سکتیں۔ وہاں تو قتل عام ہوا ہے۔ سب راستے بند ہیں۔ وہاں جانا موت کو دعوت دینا ہے” ۔
کیا دوما محاصرے کی حالت میں ہے” میں نے پوچھا۔”
اس طرح بات نہ کریں، بہن۔ ٓاپ اپنے ساتھ مجھے بھی مروائیں گی” ۔ ڈرائیور بولا “
تم سے کس نے کہا کہ وہاں کوئی نہیں جا سکتا” میں بولی۔ “
وہاں فوج لگی ہوئی ہے اور شدید فائرنگ ہورہی ہے” ۔ اس نے کہا۔ “
لوگ مررہے ہیں اور کسی کو پروا نہیں” ۔ میں بولی۔ “
سب کو ایک دن مرنا ہے چاہے جس طرح بھی مرے” ۔ڈرائیور نے کہا۔ وہ مجھے اپنے انداز سے تبلیغی ٓادمی محسوس ہوتا تھا۔ “
اگر اس طرح مرنے والوں میں تمہارے بچے بھی شامل ہوں تو تمہارا رویہ کیا ہوگا” ۔ میں نے کہا “
وہ اچانک چپ ہوگیا اور کچھ سوچنے لگا۔ پھر بولا ” اللہ میاں کی دنیا بہت وسیع ہے۔ یہاں میرے بچوں کی جان کو خطرہ ہوگا تو میں یہاں سے کہیں اور چال جأوں گا” ۔
میں نے سنا ہے کہ انہوں نے ایک زندہ نوجوان کو پکڑ کر ایک فریزر میں ڈال دیا اور باہر سے الک کردیا۔ بعدمیں اس نوجوان کی لاش ” فریزر سے نکلی۔ اس نے فریز میں لکھا تھا” یہاں بہت سردی ہے اور میرا خون تیزی سے جم رہا ہے۔ میں زندہ نہیں بچوں گا ۔ میری ماں کو میرا سلام پہنچا دینا”۔ میں نے اس کو بتایا۔
ڈرائیور نے اس کہانی کو سن کر کہا کہ ایسے واقعات عام ہیں۔ آج دمشق یونیورسٹی میں طلبہ کا مظاہرہ ہوا۔ انہوں نے طلبہ کو بری طرح مارا۔ تلبیسہ کا محاصرہ ابھی تک جاری ہے۔ موبائیل سروس اور فون بند ہیں۔ شامی سیکیورٹی فورسز لوگوں کے بچوں کی لاشیں اس طرح گھروں میں تقسیم کررہی ہیں جیسے کرسمس کے تحفے بانٹ
رہی ہوں۔ المعدامیہ میں شہریوں نے صدر بشار الاسد کی تمام تصویریں پھاڑ ڈالیں۔تصویریں پھاڑنے والے ایک نوجوان کو فورسز نے گولی ماردی۔ لطاکیہ کی مرکزی جیل میں قید ٓاٹھ قیدیوں کو جلا کر ہلاک کردیا گیا۔ ٹیکسی میرے گھر کے قریب تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ خوں ریزی مزید خوں ریزی کا سبب بنتی ہے۔ جاری ہے
8 اپریل 2011
- ہلال عید کی جھلک.. کئی سبق - April 3, 2025
- ’’اکثریت مسلم ملکوں میں ہی بے نوا کیوں‘‘ - March 30, 2025
- افغانستان پالیسی پر عوام کو اعتماد میں لیں - March 27, 2025