یہ دمشق ہے۔ ہم یہ جملہ ریڈیو دمشق سے اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ شامیوں نے اپنے دیہات اور قصبوں سے دمشق کی جانب نقل مکانی شروع کی تو دمشق نے اپنے بازو کھول دئے لیکن ایسی عورت کی طرح جو اپنے شوہر کے لئے کھانا پکاتی ہے لیکن اس میں اس کی محبت شامل نہیں ہوتی۔ آج جمعہ ہے۔ باہر ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی جس نے لوگوں کو باہر نکلنے اور چوراہوں پر اور مسجدوں کے سامنے جمع ہوکر مظاہرے کرنے سے روک رکھا تھا۔ لوگ یہ بھولے ہوئے تھے کہ ہر مظاہرہ کسی نہ کسی کی جان لے لیتا ہے۔ موت کا یہ کھیل ایسا ہے جس کا کوئی اصول متعین نہیں۔ میں روز غیر مسلح شہریوں کو موت کا سامنا کرنے کے لئے باہر نکلتے دیکھتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں کہ کس طرح اپنے بچوں کی محبت میں دیوانی مائیں انہیں باہر جانے دیتی ہیں؟ کس طرح ان کے قاتلوں کو معاف کرتی ہیں؟ لیکن نا انصافی کے اس نظام کے خلاف ہمارے بچے کب تک سینہ سپر رہیں گے؟ کب تک خون دیتے رہیں گے؟ کب تک ذاتی آرام و آسائش اور اقتدار کے بھوکے اور انا کے پنجروں میں بند حکمراں ہمارے بچوں کی جانیں لیتے رہیں گے؟ اور اپنے قبیلے اور مذہب کا نام لے کر عوام کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ آخر کب تک لوگ دھوکہ کھاتے رہیں گے؟
بارش تھوڑی دیر کے لئے رکی تو لوگ گھروں سے نکلنا شروع ہوگئے۔ میں بھی باہر نکلی اور میں نے ایک ٹیکسی پکڑ لی۔میں دوما جانا چاہتی تھی جہاں ایک مظاہرہ تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ حکومت اس مظاہرے کو روکنے کے لئے کیا حربہ استعمال کرے گی۔ اچانک بے رحم قاتلوں کے چہرے میری نظروں کے سامنے گھومنے لگے۔ میری رگوں میں خوف سرایت کرنے لگا۔ کیا وہ پرامن مظاہرین کو خون میں نہلا دیں گے؟ خوف سے میری رگوں میں بہنے والا خون جمنے لگا۔ مجھے اپنے گھٹنے کمزور محسوس ہونے لگے۔ میری ٹیکسی کا ڈرائیور ایک نوجوان آدمی تھا۔ اس کی عمر 20-30 کے درمیان رہی ہوگی۔ اس کا مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ بہادر بھی تھا۔ کچھ دور پہنچ کر ہمیں کاروں کی طویل قطار نظر آئی۔ آگے جانے والا راستہ بند تھا۔ عام دنوں میں یہاں کبھی ٹریفک جام نہیں ہوتا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب ہرے رنگ کی سرکاری بسیں کھڑی ہوئی تھیں جن میں فوجی یونیفارم میں ملبوس نوجوان بھرے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ شاید ان بسوں کی وجہ سے ٹریفک میں رکاوٹ ہے۔ لیکن یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں تھا۔ کچھ آگے یہی فوجی ہر کار میں جھانک کر پوچھ گچھ کررہے تھے۔ ان کے چہرے خشونت بھرے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کہیں باہر سے آئے ہیں۔ ان کے لہجے میں عام لوگوں کے لئے شدید حقارت اور غصہ تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی دشمن ملک نے حملہ کرکے یہاں قبضہ کرلیا ہے۔” یہاں کیا ہورہا ہے؟” میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا۔ پتہ نہیں ! اس نے مختصر جواب دیا۔ ہر طرف نیلے اور ہرے یونیفارم میں فوجی نظر آرہے تھے۔ ” یہاں کیا ہورہا ہے؟” ۔ میں نے کار کا دروازہ کھول کر قریب کھڑے ایک فوجی سے پوچھا۔ اس نے مجھ پر خشونت بھری نظر ڈالی لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔
“بہن!” ڈرائیور نے فکر مندانہ لہجے میں مجھے پکارا،” آپ اندر بیٹھ جائیں” ۔ کاریں چیونٹی کی رفتار سے رینگ رہی تھیں۔ آگے ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ تھا۔ سادہ لباس میں کئی لوگ ہر کار کے پاس جاتے اور سخت لہجے میں پوچھ گچھ شروع کردیتے۔ دو افراد میرے قریب آئے اور انہوں نے سخت لہجے میں مجھ سے پوچھا، “کہاں جارہی ہو؟” میں نے اسے کہا کہ میں کسی سے ملنے جارہی ہوں۔ “کار سے باہر آؤ” اس نے سخت لہجے میں کہا۔ میں ٹیکسی سے باہر نکلی۔ “کارڈ”۔ اس نے کہا۔ میں نے اپنے کاغذات اسے دکھائے۔ اس نے کاغذات دیکھ کر واپس کردئے اور بولا، “میڈم! آگے آپ کا واسطہ ٹھگوں سے پڑ سکتا ہے اس لئے آگے مت جائیں” ۔
“مجھے سیمسٹریس میں کسی سے ملنا ہے۔ اس میں صرف دس منٹ لگیں گے” میں بولی۔ اس نے کار کا دروازہ کھول کر مجھے بیٹھنے کو کہا اور ڈرائیور سے بولا، “آگے بڑھو”۔ سیٹ پر بیٹھ کر میں نے لمبی سانس لی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئی۔ “آگے آخر کیا ہورہا ہے؟”۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے سوال کیا۔ “کچھ بھی نہیں ہورہا”۔ ڈرائیور فکر مند لہجے میں بولا۔ مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنا کردار خاموش رہ کر ادا کرنا ہے۔ زیادہ بولنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ کچھ دور ایک اور چیک پوائنٹ تھا جہاں فوجیوں کا بڑا مجمع لگا ہوا تھا۔ راستہ بند تھا۔” کیا ہم گلیوں سے ہوکر آگے نہیں بڑھ سکتے”۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا۔” میرا خیال ہے کہ ہمیں یہیں سے واپس لوٹ جانا چاہیئے۔ مجھے اب آپ کی سلامتی کی جانب سے فکر ہونے لگی ہے۔” اس نے جواب میں کہا۔ فوجی ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں فلسطین کے کسی مقبوضہ قصبے میں ہوں۔ اور یہ آس پاس پھیلے ہوئے فوجی شامی نہیں بلکہ اسرائیلی ہیں جنہیں ہم سے کوئی ہمدردی نہیں۔
ایک فوجی افسر میرے قریب آیا اور سخت لہجے میں بولا۔ “باہر نکلو!”۔ میں باہر نکلی۔ اس نے میرے کاغذات چیک کئے۔ پھر مشتبہ نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں اس کے لہجے سے اس کو پہچان گئی کہ اس کا تعلق ساحل سمندر کے علاقے جزیرہ ریجن سے ہے، میرے کاغذات بھی اسی علاقے کے تھے اور اسی وجہ سے وہ مجھے مشتبہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ایک شخص جو سادہ لباس میں تھا میرے قریب آیا اور مجھے غور سے دیکھنے لگا پھر بولا، “کیا تم صحافی ہو” ۔ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر کھینچا اور بولا، “تم یہاں کیا کررہی ہو؟” میں نے کہا کہ مجھے کسی سے ملنے جانا ہے۔ سادے لباس والا اچانک اپنی جگہ سے اچھل پڑا اور بولا “شاید میں نے تم کو پہلے بھی دیکھا ہے۔ تم کسی ٹی وی پروگرام میں آتی تھیں”۔ مجھ سے پوچھ گچھ ہوتے دیکھ کر مجمع جمع ہونے لگا تھا اور میری سراسیمگی بڑھ رہی تھی۔ لیکن میں نے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دئے۔ایک نظر وہاں جمع ہونے والی بھیڑ پر ڈالی جن میں عام شہری بھی تھے۔ مجھے یقین تھا کہ اتنے عام لوگوں کی موجودگی میں وہ شاید مجھ سے بدسلوکی نہ کریں۔ میری آواز بلند ہو گئی۔ میں نے کہا کہ “آپ لوگوں کو ایک خاتون کو اس طرح تنگ نہیں کرنا چاہیئے۔ آخر یہاں کیا ہورہا ہے؟”۔ انٹیلیجنس والا میری بلند آواز سے ذرا متاثر نہیں ہوا اور بولا، “تم ایک ٹاک شو میں میزبان ہوا کرتی تھیں”۔
“میں چند مرتبہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں آئی تھی، لیکن میں صحافی نہیں ہوں”۔ میں نے بے چارگی سے کہا۔ سادے لباس والا بولا” اس پروگرام کا نام لیڈیز فرسٹ تھا۔ یہ عورتوں کا پروگرام تھا اور میری بیوی بھی یہ پروگرام بڑے شوق سے دیکھتی تھی۔”
انٹیلیجنس والے نے اپنے وردی والے ساتھی سے کہا کہ “اس خاتون کا تعلق اورینٹ ٹی وی چینل سے ہے۔”
“نہیں! میں اورینٹ کی ملازم نہیں ہوں۔” میں نے سخت لہجے میں کہا۔ “میں ایک مصنف ہوں۔ برائے مہربانی مجھے جانے دیں”۔
“سر! یہ اورینٹ والوں کو یہاں کی رپورٹ تو نہیں دے گی”۔ انٹیلیجنس والے نے کہا۔پھر مجھے دوبارہ کندھوں سے پکڑ کر کھینچا۔
“آپ کو ایک خاتون کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہیئے” میں بولی”آپ کا تو فرض ہے کہ آپ شہریوں کی حفاظت کریں نہ کہ انہیں ہراساں کریں۔ آپ کم از کم مجھے یہ تو بتائیں کہ یہاں کیا ہورہا ہے” ۔
“یہاں کچھ نہیں ہورہا۔ تم جلد از جلد یہاں سے اپنا منحوس چہرہ لے کر نکل جاؤ”۔ ایک وقفے کے بعد وہ پھر بولا، “اگر میں نے تم کو یہاں دوبارہ دیکھا تو میں تمہاری کھال اترواکر ڈھول بنواؤں گا جسے دوسروں کو خبردار کرنے کے لئے بجایا جائے گا”۔
میں دوبارہ ٹیکسی میں بیٹھی اور اس نے گاڑی چلادی۔ میں نڈھال ہوکر سیٹ پر گر گئی اور اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپالیا۔ اپنی پوری زندگی میں میری اتنی بے عزتی نہیں ہوئی تھی جو اس جاہل فوجی افسر اور اس انٹیلیجنس والے نے کی تھی۔ میرے ٹی وی پروگرام جن میں میں بطور میزبان آتی تھی بے حد مقبول تھے اور ملک بھر میں لاکھوں عورتیں اور مرد انہیں دیکھ کر پسند کرتے تھے۔ ائر پورٹ اور ریلوے اسٹیشنوں پر لوگ مجھے پہچان کر آٹو گراف لینے کے لئے مجھ پر ٹوٹ پڑتے۔ لیکن آج یہ وہی دمشق تھا جس کی سڑکیں جو کبھی میری شناخت تھیں اور مجھ سے محبت کرتی تھیں میری دشمن ہوگئی تھیں بلکہ میری شناخت کی وجہ سے میری جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ ٹیکسی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ہر تھوڑے وقفے کے بعد ہمیں روکا جاتا اور ہمیں سخت پوچھ گچھ کا سامنا ہوتا۔ میں نے اپنی دوست کو موبائل پر کال کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے بتا سکوں کہ میں دوما میں ہوں لیکن رابطہ نہ ہوسکا شاید انہوں نے موبائل سروس معطل کردی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم اس قصبے میں پہنچ گئے۔ تاہم اندر داخلے کے سب راستے بند تھے اور فوج نے قصبے کی مکمل ناکہ بندی کردی تھی۔ہم نے اب گلیوں میں گھنسنے کی کوشش شروع کردی تاکہ کسی طرح میونسپل اسکوائر پہنچ سکیں جہاں آج مظاہرہ تھا۔یہیں جامع مسجد بھی تھی۔ہم زیتون کے باغات میں سے راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھے تو ایک دس سالہ لڑکے نے جو سائیکل پر سوار تھا ہماری رہنمائی کی ۔ ہم میونسپل اسکوائر کے قریب پہنچ گئے۔ یہاں میں نے ٹیکسی چھوڑدی اور اسے انتظار کرنے کو کہا ۔ پھر آگے بڑھی۔یہاں کافی عورتیں بھی نظر آرہی تھیں لیکن سب حجاب اور کالی چادروں میں تھیں اور انہوں نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے۔ میں واحد عورت تھی جو بغیر حجاب کے تھی اس لئے یقینی طور پر انٹیلیجنس والوں نے مجھ کو نظر میں رکھا ہوا ہوگا۔ یہاں زیادہ تر مردوں کی لمبی داڑھیاں تھیں۔ لوگ گلیوں کے سامنے طویل قطاروں میں کھڑے تھے۔وہ خاموش تھے۔ لیکن انہوں نے کتبے اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے۔ایک کتبے پر نعرہ درج تھا،”اللہ، شام ، آزادی۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ کوئی سنی نہیں، کوئی علوی نہیں، کوئی دروزی نہیں، کوئی اسماعیلی نہیں۔ ہم سب شام ہیں”۔ کچھ لوگ زیتون کی شاخیں پکڑے ہوئے تھے جو علامتی طور پر امن کی جانب اشارہ تھا۔ میں نے مظاہرین کے قریب ہونے کی کوشش کی۔ تین افراد میرے قریب آئے۔ انہوں نے میرا راستہ روک لیا اور کہا۔ “تم کہاں جارہی ہو؟”۔ انہوں نے پوچھا۔
“میں راستہ بھول گئی ہوں۔ یہاں کیا ہورہا ہے؟ “۔ میں نے کہا۔
“یہاں کچھ نہیں ہورہا۔ فوراً یہاں سے چلی جاؤ”۔ ایک آدمی نے سخت لہجے میں کہا۔ سادے لباس میں یہ لوگ یقینا انٹیلیجنس والے تھے۔میں خاموشی سے واپس جانے کے لئے مڑ گئی۔ راستے میں میں نے دیکھا ۔لوگ خوف زدہ اور غم گین تھے۔ ایک آدمی نے بتایا کہ پرامن مظاہرین پر نشانچیوں نے فائرنگ کی ہے جو قریبی عمارتوں کی چھتوں پر چھپے ہوئے تھے۔ کئی لوگ شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ شہیدوں کی لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو اسپتال بھجوانے کے بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہوجاتے ہیں۔گویا وہ جان دینے آئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی کسی ٹیم کو یہاں تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔ ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ میری طرح یہاں پہنچے ہوں لیکن وہ کوئی فوٹیج باہر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔دنیا کو کیسے پتہ چلے گا کہ شامی شہری کس طرح آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔میں جن لوگوں سے بات کررہی تھی ان کی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے سے گریز کررہے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ ایک بے پردہ عورت کو دیکھ کر وہ میرے بارے میں کیا خیال کررہے ہوں گے۔ میں نے ان سے واپسی کا راستہ دریافت کیا۔ کیونکہ میں اب واقعی راستہ بھول گئی تھی۔ میرے پاس سوائے کچھ نوٹس کے اور کچھ نہیں تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے پاس اگر کیمرا ہوتا تو میں بہت سی قیمتی تصویریں بنالیتی لیکن وہ کیمرا تو دور کی بات ہے کیمرے والا موبائل بھی نہیں چھوڑ رہے تھے اور ہر چیز چیک کررہے تھے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں کتنے لوگ شہید ہوئے تھے۔ لیکن جمعہ کو ہونے والے یہ مظاہرے شام کی تاریخ میں ایک سنگ میل بن چکے تھے۔ کیونکہ پہلے لوگ مسجدوں میں نماز کے لئے جمع ہوتے اس کے بعد مظاہرے کرتے۔ فوج اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اب لاٹھی چارج یا آنسو گیس نہیں استعمال کرتی تھی۔یہ تو جمہوری ملکوں کا کلچر ہے۔ شام میں بلند پوشیدہ مقامات پر فوجی نشانچی چھپادئے جاتے جو مظاہرین کو ایک ایک کرکے گولی کا نشانہ بناتے۔ بالکل اس طرح جیسے یہ لوگ کوئی انسان نہیں بلکہ جنگلی سور ہیں جن کا شکار کھیلا جارہا ہے۔ تھوڑی دیر میں مجھے ٹیکسی کھڑی ہوئی مل گئی اور میں اس سے واپس روانہ ہوگئی۔ راستے میں ہراستہ کا قصبہ پڑا جہاں ہمیں بہت زیادہ چیکنگ سے واسطہ پڑا تھا۔ جب ہم اس قصبے سے گزر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ وہاں کھڑی ہوئی سرکاری بسوں سے فوجی اہلکار اتر کر شہریوں کو پیٹ رہے ہیں۔حملہ آوروں کی آنکھوں سے ایسا لگتا تھا کہ جیسے خون ٹپک رہا ہو۔ میں یہ دیکھنے کے لئے ٹیکسی سے اتری کہ کیا ہورہا ہے۔ بہت سی خوف زدہ نظریں مجھ پر مرکوز ہوگئیں۔ مجھے اپنے سر کے بالکل قریب ایک دھماکہ محسوس ہوا اور میں نیچے گر گئی۔ چھت پر چھپے ہوئے کسی نشانچی نے مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن میں بال بال بچی تھی۔ ایک شخص چھپتے چھپتے میرے قریب آیا اور بولا،”بہن !آ پ فوراً یہاں سے چلی جائیں، وہ اوپر سے فائرنگ کررہے ہیں اور کسی کو نہیں بخش رہے”۔ میں نے ایک جانب دوڑ لگادی اور گلیوں میں پناہ لینے والے مجمع سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔کیونکہ زیادہ تر فائرنگ ا سی جانب ہورہی تھی۔ ایک جگہ ایک شہید کی لاش پڑی تھی لیکن اس کے گرد کھڑے ہوئے شہری نہیں بلکہ قاتل تھے۔میں نے ایک نظر اسے دیکھا پھر آگے کی جانب دوڑنے لگی۔ کہاں سے فائر آرہا ہے ؟ کاش میں دیکھ سکتی؟ میری رفتار خود بخود کم ہونے لگی۔ لیکن نشانچی مسلسل فائر کررہا تھا اور جو بھی گلی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا اسے نشانہ بناتا۔ ایک نوجوان زور سے چلایا اور بولا،”میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ لیکن اب وہ اس دوڑنے والی خاتون کو نشانہ بنا رہا ہے۔ شاید اس کی بندوق کی نال کا رخ میری طرف ہورہا تھا کہ مجمع سے ایک نوجوان نے مجھے وارننگ دی۔گلی کے ایک سرے پر دو طاقتور ہاتھوں نے مجھے اندر کھینچ لیا۔فائر ہوا اور ڈھیروں مٹی زمین سے اڑکر میرے نتھنوں میں گھس گئی۔
“بہن! جلد از جلد یہاں سے نکل جائیں۔ نوجوان نے مجھ سے ہمدردی اور احترام کے ساتھ کہا”۔ یہاں ہر شخص مجھے بہن کہہ کر مخاطب کررہا تھا۔ میں حیران تھی کہ شامی فوجی جو اپنے ملک کے شہریوں کو اس بے حسی سے نشانہ بنا رہے تھے، کیوں اتنے شقی القلب ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں اپنی ٹیکسی کے سامنے کھڑی تھی۔ میں حیران تھی کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور کیسا آدمی تھا جو گولیوں کی بوچھار میں اب بھی میرا انتظار کررہا تھا۔ میں کار کی پچھلی نشستوں پر گر گئی اور ٹیکسی میرے گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔دفعتاً میں نے سسکیاں بھرنے کی آواز سنی۔ میں نے سر اوپر اٹھایا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ٹیکسی ڈرائیور سسکیاں لے کر رو رہا تھا۔ آخر نوجوان شہیدوں کے لاشے اس نے بھی دیکھے تھے اور وہ ہر جگہ میرے قریب ہی رہا تھا۔ ہم ایک ہی کشتی کے سوار تھے۔ یہ کشتی جو شام کی آزادی کی جنگ میں خون خوار موجوں کا سامنا کررہی تھی۔
- ہلال عید کی جھلک.. کئی سبق - April 3, 2025
- ’’اکثریت مسلم ملکوں میں ہی بے نوا کیوں‘‘ - March 30, 2025
- افغانستان پالیسی پر عوام کو اعتماد میں لیں - March 27, 2025