اطراف‘ کو فخر ہے کہ ہم ہمیشہ معاملات کے روشن اور مثبت پہلوﺅں کو اپنے قارئین کے سامنے لاتے ہیں۔’
چند ماہ پہلے ایک تقریب میں ہم نے دیکھا تھا کہ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان بچوں بچیوں کی تعلیم کے لیے اشتراک ہورہا ہے اور وہ بھی انتہائی پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کے لےے۔ ہم نے اسی روز عزم کیا تھا کہ سندھ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن جیسے علم پرور ادارے کے مکمل کوائف سے ہمیں اپنے سرپرستوں اور پڑھنے والوں کو متعارف کروانا چاہئے ۔ تاکہ اس کار خیر سے آگاہی کا دائرہ وسیع تر ہو۔
اپنی اس کوشش کے درمیان جوں جوں ہمیں فاﺅنڈیشن کے قیام کے اغراض و مقاصد سے واقفیت ہوئی۔ اور اس کی عملی شکلیں دیکھیں تو ہر قدم روح کو تسکین ملی۔ روشنی کے ان میناروں سے وابستہ افسروں۔ کارکنوں۔ اور دیگر اداروں کے لیے دل سے دعائیں نکلتی رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس پاکستان کی صورت میں ایک عظےم مملکت عطا کی ہے۔ جس کی گزشتہ صدیاں جدو جہد سے معمور ہیں۔ ایک طرف جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ دوسری طرف اہل علم۔ صوفیائے کرام۔ علمائے عظام کی ہجرتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ جدید و قدیم علوم پر تحقیق بھی ہوتی رہی ہے۔ ان روشن روشن صدیوں کے نوادرات سنبھالنے کے لیے جب بیسویں صدی آتی ہے تو یہاں انگریزی ذریعہ ¿ تعلیم بھی متعارف ہوتا ہے۔ درس نظامی تو صدیوں سے رائج تھا ہی۔
’اطراف‘ کا عزم بالجزم تو” انتہاﺅں میں رابطہ“ ہے اور یونیورسٹیوں ۔ دینی مدارس سے پھوٹتی روشنی کو معاشرے کے مختلف حلقوں تک پہنچاتا ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے مختلف شعبوں کی تفصیلات جانتے ہوئے ہم پر قبل از پرائمری۔ بعد از پرائمری۔ سیکنڈری۔ ہائر سیکنڈری تعلیم۔ تربیت۔ تدریس کی اہمیت بھی کھلی کہ پرائمری سے بارہویں جماعت تک کی تدریس بھی بنیادی حقیقت ہے کہ علاقے میں اگر بچے بچیوں کے ابتدائی برسوں یعنی پانچ برس سے سولہ برس تک کی عمر میں ذہن سازی کا اہتمام نہیں ہوگا۔ تو ہر ضلع میں یونیورسٹیوں کا قیام بھی بے نتیجہ رہے گا۔ 200 سے زیادہ یونیورسٹیوں کے باوجود اگر ہمارا معاشرہ ابھی تک علمی توانائی سے محروم ہے تو اس کی وجہ معیاری ابتدائی تعلیم کا نہ ہونا ہی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کھلنے والے نامور اسکولوں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ وہاں تعلیم بہت مہنگی ہے۔ تربیت پر چنداں توجہ نہیں ہے جبکہ ہماری آبادی کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ ان کے لیے دو قوت کی روٹی کا حصول مشکل ہے۔ وہ اتنی زیادہ فیسیں کیسے ادا کرسکتے ہےں۔
ایسے میں سندھ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کی طرف سے افراد اور اداروں سے پارٹنر شپ(اشتراک) کے ذریعے مفت معیاری تعلیم قبل از پرائمری سے بارہویں جماعت تک کا اہتمام انتہائی نتیجہ خیز اور با مقصد ہے۔ ان صفحات میں یہی کوشش کی گئی ہے۔ کہ فاﺅنڈیشن کے نظام کو عام فہم انداز میں آپ تک پہنچایا جائے۔ ان علاقوں میں رہنے والے قارئین ’اطراف‘ بتائیں کہ عملاً کیا صورت حال ہے۔
’اطراف‘ کی یہ کوشش ہوگی کہ پرائمری ایجوکیشن اور سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے یعنی پرائمری سے بارہویں تک کی تعلیم اور تربیت کے لیے بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرح دو الگ الگ کمیشن قائم کیے جائیں۔ صوبائی سطح پر بھی اور وفاق کی سطح پر بھی۔ تاکہ ملک بھر میں اس ابتدائی تعلیم کا معیار۔ جدید تقاضوں کے مطابق ہو۔ یہ معیاری ابتدائی تعلیم والے جب یونیورسٹیوں میں داخل ہوں گے تو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔ جس طرح ملک میں بلدیاتی اداروں کے تسلسل سے انتخابات نہ ہونے اور مقامی ضلعی شہری حکومتوں کی فعالیت کے بغیر پارلیمنٹ اپنی بالادستی قائم نہیں کرپاتی۔ اسی طرح ہماری اعلیٰ تعلیم ہمارے معاشرے کے سوچنے سمجھنے کا معیار بلند نہیں کرسکی ہے۔
’اطراف‘ کی یہ کوشش آپ کے سامنے ہے۔ اسے بغور پڑھ کر اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ سندھ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے پارٹنروں سے ہماری گزارش ہوگی کہ وہ ہمیں اپنی قیمتی تجاویز سے نوازیں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہر ماہ چند صفحات اس مقصد کے لیے وقف کیے جائیں۔ انٹرویوز اور مضاین کے ذریعے معاشرے میں تعلیم اور تربیت کی تحریک چلائی جائے ۔ پارٹنرز کے ساتھ ساتھ معزز اساتذہ (مرد۔ خواتین دونوں) سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے۔
اپریل 2023
- ہلال عید کی جھلک.. کئی سبق - April 3, 2025
- ’’اکثریت مسلم ملکوں میں ہی بے نوا کیوں‘‘ - March 30, 2025
- افغانستان پالیسی پر عوام کو اعتماد میں لیں - March 27, 2025