اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہے ۔ کرم ہے کہ ’اطراف‘ کو ایک انتہائی اہم موضوع ’ پرنٹ میڈیا کی بقا کیسے ممکن ہو۔“ پر ایک وقیع اشاعت خاص نکالنے کی توفیق دی۔
اس کے ساتھ ہی اپنے محبان ’اطراف‘ عام قارئین اور اپنے قلمی معاونین کے بھی ممنون و شکر گزار کہ ان کی اعانت سے یہ خاص نمبر اور بھی معیاری۔ جامع اور ہمہ جہت ہوگیا ہے۔
پرنٹ میڈیا کا انحطاط یوں تو پوری دنیا کا ہی مسئلہ ہے۔ ہر ذمہ دار قوم اپنے اپنے ہاں اخبارات و رسائل کے غروب کے مناظر دیکھنے پر مجبور ہے۔ لیکن ہر ملک میں اس کے زوال کے اپنے اپنے اسباب ہیں۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے ہاں پرنٹ میڈیا ہو۔ اعلیٰ اقدار ہوں۔ صنعت و حرفت ہو۔ علمی وقار ہو۔ ہر شعبے میں ہر زوال ہر عروج وقت سے پہلے آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کوئی مربوط سسٹم نہیں ہے۔ سب شعبے اپنے اپنے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ کوئی دیکھنے والا جائزہ لینے والا نہیں ہے۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے زمانے میں ہمارے بیورو کریٹ۔ ماہرین اطلاعات 1964 میں ٹیلی وژن لے آئے۔ نہیں دیکھا کہ اس وقت شرح خواندگی کیا ہے۔ ذہنی شعور کیا ہے۔ قومی اشاریے کیا ہیں۔ کیا ٹی وی کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ کیا اخبارات نے اپنی اشاعت کی تعداد کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ کیا ساری یونیورسٹیوں میں تحقیقی مجلّے باقاعدگی سے نکل رہے ہیں۔ کیا ہماری درسگاہوں میں کوئی سائنسی تحقیق ہورہی ہے کوئی ایجاد ہورہی ہے۔ زندگی کو آسان بنایا جارہا ہے۔ اس وقت ترجیح یہ ہوئی کہ ایوب خانی دَور کی برکتیں۔ فرمودات لوگوں کے ڈرائنگ روموں اور خواب گاہوں تک پہنچیں۔
پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دَور میں ٹی وی کو سیاہ و سفید سے رنگین کردیا گیا۔ اس وقت بھی دیگر ذرائع اطلاعات کے مالی استحکام پر کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔ پھر قوم کو اپنے مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کی وردی ماشاءاللہ رنگین نظر آنے لگی۔
مشرف کے دَور میں پرائیویٹ ٹی وی چینل درجنوں کی تعداد میں شروع کردیے گئے۔ نہیں دیکھا گیا کہ میڈےا مالکان میں کوئی قومی شعور ہے۔ کیا وہ اپنی قوم سے مخلص بھی ہیں یا نہیں۔ ملکی معیشت اتنی مضبوط ہے۔ ملک میں اتنی صنعت پھیل چکی ہے کہ نہیں۔ ہم صارفین کی جنت تھے۔ دنیا بھر سے خورد و نوش کا سامان بکنے کے لےے آرہا تھا۔ اپنی صنعتیں دم توڑ رہی تھیں۔ ملکی کارخانے بند کرکے وہاں شاپنگ مال بنائے جارہے تھے۔ ایسے میں پرائیویٹ چینل تفریح کا ذریعہ تو بن سکتے تھے۔ مگر اطلاع کا نہیں۔ اس سے گلیمر میں اضافہ ہوا۔ چینلوں کے لائسنس بھی اخبار مالکان کو ہی دیے گئے ہےں۔ ان کی توجہ اخبار سے چینل کی طرف منتقل ہوتی گئی۔
اسی دوران ملک میں ہر قسم کے تعصبات۔ لسانی۔ نسلی۔ فرقہ وارانہ۔ مسلکی۔ مذہبی ابھر کر آتے رہے۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں کئی ہزار پاکستانی ہلاک کیے گئے۔ کروڑوں افراد ہر سال غربت کی لکیر سے نیچے جاتے رہے۔ میڈیا میں مالی منفعت کا دَور آیا۔ مگر سب بے تحاشا۔ غیر متوازن۔ میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں میںغیر معمولی فرق۔ خبر کی تصدیق اور تحقیق کا معمول ختم ہوتا گیا۔ میڈیا کا روزانہ کا چھ سات گھنٹے کا دائرہ ملک کے ایک دو فی صد سیاستدانوں تک محدود ہوگیا۔ جھوٹ کھل کر بولا گیا۔ اپنے اپنے سیاسی سربراہ کی غلامی کا حق ادا کیا گیا۔ کچھ نادیدہ قوتوں کے ڈاکٹرائن کی اشاعت میں دل و جان سے مصروف رہے۔ ملکی کرنسی کی حالت پتلی ہوتی گئی۔ بے روزگاری بڑھتی گئی۔ اقتصادی استحکام ترجیح نہیں رہا۔
یہ سارے عوامل اخباری صنعت کو بھی پستی کی طرف دھکیلتے رہے۔ میڈیا مالکان کی ساری مالی۔ ٹیکنیکل۔ تربیتی توجہ اپنے چینل کی طرف منتقل ہوتی رہی۔
یہ سارے انتظامی۔ اقتصادی۔ سماجی۔ سیاسی۔ صنعتی۔ سائنسی۔ علمی عوامل ہیں۔ جنہوں نے مل جل کر کسی وقت کے مضبوط۔ مقبول۔ زندگی کے ناگزیر شعبے کو کمزور اور غےر ضروری کرکے رکھ دیا ہے۔ سماجی ابتری نے پرنٹ میڈےا کو متاثر کیا ہے۔ پرنٹ میڈیا سے عدم توجہی سماج پر اثر انداز ہوئی ہے۔
ایسے سماجی دگرگوں حالات میں بے مہار سوشل میڈیا آگیا ہے۔ یہ بھی مشرف دَور کی ایک غیر منطقی کوشش ہے۔ عوام کو اقتصادی استحکام کی ضرورت تھی ۔ روزگار کی۔ شرح خواندگی اب بھی اتنی نہیں ہے کہ ہر ہاتھ میں موبائل ہو ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی تربیت کہیں نہیں دی گئی۔ کہ اسے برتتے وقت اپنے مذہبی شعائر۔ معاشرتی رسم و رواج۔ دوسرے کی ذاتی زندگی کی قدر۔ بزرگوں کی عزت کا خیال رکھنا ہے۔
اب ان دنوں بجلی کے بلوں کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے۔
اقتصادی حالات بد ترین ہیں۔ خودکشیاں ہورہی ہیں۔ ملک عوامی نمائندگی سے محروم ہے۔ انتخابات ہوں گے نہیں ہوں گے کچھ معلوم نہیں ہے۔
ڈالر مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ اخباری کاغذ درآمد ہوتا ہے۔ اور وہ پرنٹ میڈیا کی اولیں ضرورت ہے۔انڈیا سے تعلقات بہتر نہیں ہے۔ وہاں سے کاغذ سستا پڑ سکتا ہے۔
’پرنٹ میڈیا کی بقا کیسے ممکن ہے‘ یہ پاکستان کی بقا بھی ہے۔ تہذیب کی بقا بھی۔ اقدار کی بقا بھی۔ اسے حکمرانوں کے ہاتھ میں کھلونا نہ بننے دیں۔ پرنٹ میڈیا کھوکر ہم بہت کچھ کھودیں گے۔
ستمبر2023
- ہلال عید کی جھلک.. کئی سبق - April 3, 2025
- ’’اکثریت مسلم ملکوں میں ہی بے نوا کیوں‘‘ - March 30, 2025
- افغانستان پالیسی پر عوام کو اعتماد میں لیں - March 27, 2025