میں نے تو ہمیشہ اپنے آپ پر فخر کیا ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ دنیا کا سب سے حسین اور فطرت کے تمام مظاہر رکھنے والا ملک میری شناخت ہے۔ سبز پاسپورٹ میری پہچان ہے۔
میرے عظیم وطن کا محل وقوع دنیا کی اہم ترین جغرافیائی حیثیتوں میں سے ہے۔
یہ قلق بھی ہمیشہ لاحق رہا ہے کہ ہم نے اپنی حماقتوں۔ نا انصافیوں اور غلط حکمتِ عملیوں سے مشرق بعید کے قریب اپنے اکثریتی بازو اپنے بنگالی بھائیوں کو کھودیا۔ مشرقی پاکستان ہم سے ناراض ہوکر جدا ہوگیا۔ وہاں بھی فطرت کا حسن کھل کرملتا تھا۔ سندربن۔ چٹا گانگ۔ میمن سنگھ۔ نرائن گنج۔ دریا۔ ندیاں۔ خلیج بنگال۔
اب بھی ہماری جغرافیائی حیثیت انتہائی اہم اور حساس ہے۔ ہمارے ہمسائے میں افغانستان ہے۔ ایران ہے۔ چین ہے۔ بھارت ہے۔ مشرق بعید سے مشرق وسطیٰ جانا ہو تو ہماری زمینی۔ فضائی۔ سمندری حدود سے ہوکر جانا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ یورپ والوں کو مشرق بعید جانا ہو۔ بھارت جانا ہو۔ تو ہمارے ذریعے جانا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں میٹھے پانی کے لاتعداد دریا عنایت کیے ہیں۔ بہت طویل قدرتی ساحل۔ نعمتوں سے بھرا سمندر۔ بنجر خشک پہاڑ جن کے سینے میں سونا ہے۔ تانبا ہے۔ یورینیم ہے۔ اور نہ جانے کیا کیا۔ ہم تو اتنے غافل ہیں کہ ہم نے یہ جاننے کی بھی زحمت نہیں کی کہ ہمارے پہاڑوں میں ریگ زاروں میں خدائے بزرگ برتر نے کیا کیا خزانے عطا کر رکھے ہیں۔
ہماری تاریخ۔ ہماری تہذیب کہیں دس ہزار سال پرانی ہے۔ کہیں آٹھ ہزار۔ تاریخ ہمیں حیرت انگیز مناظر دکھاتی ہے۔ بدھ مت کی روحانی شخصیتیں بھکشو شمالی وادیوں میں پیدل چلتے نظر آتے ہیں۔ کئی کئی ہزار سالہ درخت گئے وقتوں کی داستانیں سناتے ہیں۔ موہنجو دڑو۔ ہڑپّہ۔ مہر گڑھ۔ ان دنوں تہذیب کے گہوارے تھے۔ جب یورپ تاریک دَور سے گزر رہا تھا۔ جب امریکہ دریافت ہی نہیں ہوا تھا۔ پھر 1500 سال سے ہم آخری الہامی کتاب قرآن پاک۔ آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے امین ہیں۔ باب الاسلام سندھ ہمارے پاس ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتوں کو ہم جھٹلائیں گے۔ ہمیں تو ہر قدم ہر سانس خالق حقیقی کا شکر گزار ہونا چاہئے۔
ہم اس رحیم و کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں کہ ہمیں ’اطراف‘ کا چھٹیاں نمبر ترتیب دینے کی توفیق دی۔ ہمیں والہانہ تسکین میسر آئی کہ ہمارے قلمی معاونین نے ملک کے گوشے گوشے کی سیر کی رُوداد ارسال کی۔ تحریریں بھی تصویریں بھی۔ ملک میں شاہراہوں کا ایک خوبصورت جال بچھ گیا ہے۔ اب پاکستانی خاندان اپنے ہی وطن کی سیر کے لیے اپنی گاڑی لے کر نکل جاتے ہیں۔ جون جولائی اگست چھٹیوں کا زمانہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے وطن کی حسین وادیاں دیکھنے کا مناسب ترین وقت ہے۔ بلوچستان۔ سندھ۔ کے پی کے۔ پنجاب۔ گلگت بلتستان۔ آزاد کشمیر سب ہی خوبصورت ہیں۔ سب ہی دل نواز۔
ہمارے بد نیت حکمراں طبقوں کی منفی خواہشات کے باعث ملک میں ہمیشہ نازک وقت جاری رہتا ہے۔ لیکن ہمارے صابر۔ شاکر۔ جفاکش۔ ہم وطن پھر بھی اپنی اولادوں کو اصل پاکستان دکھانے کے لیے نکلتے ہےں۔ اللہ تعالیٰ نے ان وادیوں کو حسن دیا ہے۔ ہمارا فرض تھا کہ ہم وہاں آسانیاں سہولتیں اور اچھی میزبانی فراہم کرتے۔ پھر بھی ان علاقوں میں رہنے والے بہت مہمان نواز ہیں۔ وہ سیاحوں کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کردیتے ہیں۔
’اطراف‘ ہمیشہ اچھوتے موضوعات پر خاص اشاعتیں پیش کرتا ہے۔ انشاءاللہ ”چھٹیاں نمبر“ بھی یادگار رہے گا۔ ہر سال جون جولائی میں ’چھٹیاں نمبر‘ باقاعدگی سے شائع کریں گے۔ آپ کے تعاون کے شکرگزار۔
جون2023۔ جولائی2023
- ہلال عید کی جھلک.. کئی سبق - April 3, 2025
- ’’اکثریت مسلم ملکوں میں ہی بے نوا کیوں‘‘ - March 30, 2025
- افغانستان پالیسی پر عوام کو اعتماد میں لیں - March 27, 2025