آج میرے دن کا آغاز اس اخباری سرخی سے ہوا، “ایک اسپتال سے تعلق رکھنے
شام کے تمام شہر محصور اور گھیراؤ کی حالت میں تھے۔ تمام شہروں میں پانی
درعا کے محصور شہر پر اولے بھی اس طرح گر رہے تھے جس طرح گولیوں
مجھے پہلی مرتبہ یہ اندازہ ہوا کہ دنیا وسیع نہیں بلکہ تنگ ہے۔ میں نے
بجلی کے بلوں نے پورے ملک کو پریشان کر رکھا ہے۔ نجی بجلی کمپنیوں سے
یہ دمشق ہے۔ ہم یہ جملہ ریڈیو دمشق سے اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں۔
آدمی قہقہہ نہ لگائے تو کم از کم مسکرادے تحریر میں کاٹ ابنِ انشا کی
سوشل میڈیا معلومات کا بھی سر چشمہ ہے۔ لیکن متعلقہ کمپنیاں فیس بک بالخصوص اپنے
میں قاتلوں کے خوابوں میں گئی اور ان سے پوچھا،” جب گولیاں جیتے جاگتے انسانوں